Tuesday, 11 November 2014

کب آؤ گے ؟


 بے خُودی
مستیاں
خُوشبُوئیں لے کے دل میں دھڑکتا ہُوا
ایک آسُودہ خواہش کا مہکا بدن

نرم ہاتھوں پہ دُلہن سی مہکی ہُوئی
اک سُہاگن کی سُرخ و سیاہ مہندیاں
اس کی نازُک کلائیوں میں چھن چھن چھنکتی ہوئی
کانچ کی نیلی، پیلی، ہری چُوڑیاں
اپنے ساجن کی ہر پیش قدمی پہ شرما کے خُود میں سمٹتا ہُوا
وصل کی خُوشبُؤں سے دہکتا ہوا
اُس کا نازُک بدن
اور بستر کی شِکنوں میں چھُپ چھُپ کے ہنستی ہوئی
سُرخ پھولوں کی جادُو اثر پتیاں
اور اس خواب کو سوچ کر رات دن
بین کرتا ہُوا
اک سِپاہی کی بیوی کا خالی صحن !!!
ثمینہ تبسُم

جہالت !!!


 مُجھے بھی شرم آتی ہے
مگر کہنا ہی پڑتا ہے
کہ چُپ رہ کر میں جو کُچھ دیکھتی سُنتی ہوں
اُس کو سہہ نہیں سکتی

میں بیٹی ہوں
بہن بھی ہوں
میں اک ماں ہوں
میرے لوگوں کا کہنا ہے
مُجھے یہ چاہیئے کہ میں
نظر نیچی کئیے
چُپ کر کے
ہر اک بات کو سُن کر
دُوپٹہ مُنہ پہ رکھ لوں
دانت میں اُنگلی دبا کر شرم کے مارے
اندھیری کوٹھری میں جا چُھپوں
اور جسم کے حیرت کدے میں
دھیرے دھیرے کھل رہی
خواہش کی کلیاں چُن کے اپنے آپ کو سیراب کر لوں
جہالت کے یہ کیڑے جو میرے نازُک بدن کو کھا رہے ہیں
جو امراضِ پوشیدہ میرے اندر پل رہے ہیں
اُنھیں اگلی نسل میں مُنتقل کر کے
اندھیری کوٹھری میں جان دے دُوں
میں انساں ہوں
میں جسمانی مریضہ ہوں
مُجھے تعویز گنڈوں کی
یا جادُو منتروں کی آگ میں جھونکو گے
سب برباد کر دو گے
مُجھے صدیاں لگی ہیں یہ اندھری کوٹھری مسمار کرنے میں
تو اب چُپ چاپ سر پہ مشرقیت کا سُنہرا تاج پہنے بیٹھنا مُمکن نہیں ہے
ثمینہ تبسُم

ڈپریشن !!!


 آج مُجھے یوُں لگا
جیسے آیئنے کے سامنے کھڑی
میں خُود کو پہچاننے سے قاصر ہوں
وہ میرے سامنے کھڑی تھی
ہونٹوں پہ ایک خُوبصورت مُسکراہٹ سجائے
آنکھوں میں بے پناہ مُحبت لئے
اُس نے بہت شوق سے مُجھے پُکارا
اور دونوں باہیں پھیلا کر اپنے سینے سے لگا لیا
میں پتھر کی طرح سرد تھی
اُس کا لمس اجنبی نہیں تھا
وہ گرم جوشی بھی جعلی نہیں تھی
اور اچانک مُجھے اُسکا نام یاد آگیا
جیرالڈ سٹریٹ پہ واقع وہ اورگنائزیشن بھی
جہاں ایک کورس کے سلسلے میں، میں اُس کے ساتھ تھی
لاھور تکہ ہاؤس کا کھانا بھی
اور اُس کے بعد
ایک گہری تاریکی
جب اُس نے میری سردمہری محسوس کی اور مُجھے خُود سے الگ کیا
تو اُس کی آنکھوں میں حیرت تھی
اُلجھن تھی
اور بہت سارے سوال
مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
صرف یہ یاد ہے
کہ اُس وقت
نروس بریک ڈاؤن کے بعد میں شدید ڈپریشن سے گُزر رہی تھی
صرف ایک سرٹیفیکیٹ یے
جو اُس کورس کی یاد دلاتا ہے جس میں وہ میرے ساتھ تھی
میری زندگی کا پُورا ایک سال ؟
وہ سب میں کیسے بھول گئی ؟
مُجھے نہیں پتہ
اب میرے پاس بہت سے سوال ہیں
لیکن سمجھ نہیں آتی بات کہاں سے شروع کروں ؟؟؟
ثمینہ تبسُم

بولنے والی !!!


 وہ کہتے ھیں
کہ جو عورت
بڑی بن ٹھن کے تصویریں کھچاتی ھے
یا اپنی *وال پہ اُن کو لگاتی ھے
وہ مردوں کو پھنساتی ھے

“ تو کیا تُم سارے پھنستے جا رھے ھو ؟“
میرے لوگو
مُجھے مذہب
یا اپنے سڑ رھے رسموں رواجوں کے
کسی بازار میں لاکر کھڑا کر دو
مُجھے کُچھ بھی کہو
الزام دو
چاھو
سراھو
گالیاں بک دو
مٰگر میں خُوش
بہت خُوش ھوں
میں اپنی ذات سے آگے
بہت آگے نکل کر سوچتی ھوں
مُجھے تُم سے مُحبت ہے
کہ تُم سچ بولنے والی کسی عورت سے اتنا پیار کرتے ھو
کہ چاھو بھی
تو اب ھرگز
نظر انداز کرنے کی
کوئی کوشش نہیں کرتے
*فیس بُک
ثمینہ تبسُم

فانی !!!


 مُجھے
میرے نہ ہونے کا خوف
اور اس دُنیا کے
میریے بغیر بھی
چلتے رہنے کا اندیشہ
سونے نہیں دیتا

کیا ہو گا آخِر ؟
میرے اس اتنے جتنوں سے کمائے ہوئے پیسے کا
میری جائیداد
میری کاریں
میری کوٹھیاں
کیا اس گھٹیا اور دو کوڑی کی دُنیا میں رہ جایئں گی؟
میرا یہ خُوبصورت
فولاد جیسا جسم
میری طاقت
میری جوانی
سب اک دو گز کی قبر میں مٹی ہو جائے گا ؟؟
نہیں نہیں
ہرگز نہیں
مُجھے نہیں مرنا
کبھی نہیں مرنا
ثمینہ تبسُم

Tuesday, 23 September 2014

نا جائز !!!


بہت اُلجھی ہوئی ہوں
بہت سہمی ہوئی ہوں
میری سوچوں کا ملبہ خُود مُجھی پہ گر رہا ہے
سوالوں کی جو گٹھری اس جواں بچی کے پھولے پیٹ میں پلتی ہے
اُس کی کرب سے پھٹتی ہوئی آنکھون سے دکھتی ہے
اذیت کے تشنُج سے وہ خُوں آلود ناخُونوں سے خُود کو مارے دیتی ہے
کوئی ایسا نہیں جو اُس کو سینے سے لگا کے تھوڑی ڈھارس دے
کوئی اس سے کہے کہ چند ہی گھنٹوں میں وہ اس درد سے آزاد ہو گی
مگر کوئی بھی اُس سے کُچھ نہیں کہتا
نہ اُس کے پاس رُکتا ہے
سبھی کترا کے
اپنے ناک منُہ پہ ہاتھ رکھ کے یوں گُزرتے ہیں
کہ جیسے گندگی کی پوٹ
وہ کیڑوں بھری لڑکی اُنھیں برباد کر دے گی
" طوائف ہے "
یہ سرگوشی کلینک کے فرش پہ سر پٹکتی بین کرتی ہے
تو یہ بدحال اور بدذات چھوری آج سے کُچھ ماہ پہلے تک
کسی بستر پہ چادر بن کے بچھتی تھی
یہاں اس حال میں ہے کہ
زمیں پھٹتی ہے نہ یہ آسماں گرتا ہے اس چنڈال چھوری پہ
یہ بچہ اس جہاں میں آکے کسطرح سے خُود کو یہ بتائے گا
کہ وہ ناپاک ہے
گندہ ہے
ناجائز غلاظت ہے
نہ اُس کا باپ ہے کوئی
نہ اُس کی ماں کا شوہر ہے
کسی کو اُس سے
اُس کی ماں سے ہمدردی نہیں ہے
تو اب میں سر کو تھامے سوچتی ہوں
اگر یوم _ حشر ہر فرد اپنی ماں کے پہلے نام کی تختی لئے جاگے گا تو
یہ کس کا بچہ ہے ؟
یہ جائز یا نا جائز ہے
یہ سارے فیصلے اک ماں کرے گی؟
مگر یہ بات دُنیا کی سمجھ مین کیوں نہیں آتی؟
بہت اُلجھی ہوئی ہوں
میری سوچوں کا ملبہ خُود مُجھی پہ گر رہا ہے
ثمینہ تبسُم

مجازی خُدا !!!


میرے کُچھ کہنے سے پہلے
تُم مُجھے سُنتے ہو
کُچھ مانگنے سے پہلے 
نوازتے ہو
میری تنہائی میں
میرا سہارا ھو
اور ہجُوم میں
میرے واحد ساتھی ہو
تُمہاری ایک نظر
مُجھے مالا مال کردیتی ہے
تُمہارا لمس
مُجھ میں حرف کُن پھونک دیتا ہے
مُجھے دیکھ کر
تُمہاری آنکھیں شدت جذبات سے بھیگ جاتی ہیں
اور یہ نمی میری رُوح کو سیراب رکھتی ہے
تُم میرے ہونے کی وجہ ہو
میری جان
میرے لیئے تُم مُحبت کے خُدا ہو
اور میں مُحبت میں بھی توحید کی قائل ہوں
ثمینہ تبسُم