Showing posts with label Urdu Poems. Show all posts
Showing posts with label Urdu Poems. Show all posts

Tuesday, 11 November 2014

طلسم


 اور
یہ میں ہوں
کہ ہے کوئ جادُو گری

اور
یہ تُم ہو
کہ ہے اسمِ اعظم کوئی
لذتِ عشق سے بڑھ کے کُچھ بھی نہیں
بس یہی
بس یہی
بس یہی
ثمینہ تبسُم

لیلتُہ المُحبت !!!


 چاندنی کے رُوپہلی آنچل میں اپنا جگمگاتا مُکھڑا چھُپائے
چودھویں کا مُکمل چاند
کینڈل لائیٹ ڈنر
گُلابوں اور موتیئے کی سحر انگیز خُوشبو
جادُوئی موسیقی
بارش کی بُوندوں کا ہلکا سا ترنُم
سائیوں کی طرح چلتے ویٹرز
کانٹوں اور چمچوں کی ہلکی سی کھنکھناہٹ
کھانے اور ریڈوائن کی اشتہا انگیز مہک
سیاہ سُوٹ سے اُٹھتا جذبات کا اک خاموش طُوفان
سگرٹ اور قیمتی پرفیوُم کا اُس کی طرف مائل کرتا ہوا جادُو
ڈانس کی دعوت دیتا
نفاست سے کٹے ناخُونوں اور مضبُوط اُنگلیوں سے مرصع
ایک نرم، گرم اور سانولا ہاتھ
ڈانس فلور پہ تھرکتے ہوئے قدموں میں در آتی قُرب کی خواہش
کمرے کی طرف بڑھتے ہوئے
مہکتے خواب
نشیلی آنکھیں
اور بےقرار خواہش
صُبح کی سُرمئی چادر کو
دھیرے دھیرے اپنے چہرے سے سرکاتا ہُوا بے صبر سُورج
باتھ رُوم میں بےترتیبی سے گرے پڑے
کُچھ بڑے ، کُچھ چھوٹے تولیئے
بیڈ پہ یہاں وہاں
آڑے تِرچھے پڑے
چُرمُرائے ہوئے تکئیے
بستر کی بےشُمار شِکنوں سے جھانکتی ہوئی
وصل کی سیراب خواہش
نائیٹ ٹیبل پہ رکھے کارڈ پہ گُنگُناتا ہُوا
ہنی مُون سُوئیٹ !!!
ثمینہ تبسُم

جادُو گرنی


 ہجر کے گُھنگھرو باندھے
وہ ایک ایسی دُھن پہ دیوانہ وار رقص کرتی ہے
جو کسی بانسری کی اُونچی لے
اور کچے گھڑے کی دھیمی تھاپ کے سنگم سے جنم لیتی ہے
تیشے کی نوک پہ تھرکتی
گھوڑوں کے سُموں تلے کُچلی جاتی
ریتلے طُوفانوں میں دم گُھٹ کے مرتی
اور بپھرے ہوئے پانیوں میں غرق ہوتی
ہر زنجیر کو توڑتی
ہر دیوار کو گراتی
ہر زندہ دل پہ سحر پُھونک دیتی ہے
اُس پہ اُنگلیاں اُٹھتی ہیں
اِلزام لگتے ہیں
سنگسار ہوتی ہے
عزت کے نام پہ قتل ہوتی ہے
وٹہ سٹہ میں برباد ہوتی ہے
بکریوں کی طرح بِکتی ہے
قُرآن اور جاےءنماز سے بیاہی جاتی ہے

نہ مداری تھکتے ہیں
نہ تماشائی
نہ کٹھ پُتلیاں
مُحبت کبھی نہیں مرتی
ثمینہ تبسُم

تشبہہ !!!


 میں اکثر سوچتی
چڑتی تھی
جب لوگوں سے ملتی تھی
میری امی یہ کہتی تھیں
کہ بچے پیڑ پہ
پودوں پہ اُگتے ہیں
تو پھر میں خُوب ہنستی تھی

کبھی ابُو
کبھی امی
کبھی انکل
کوئی آنٹی
کسی جنگل میں جا کر کوئی سا بچہ اُٹھا لاتے
تو میں حیران ہوتی تھی
" ہمارے باغ میں جو سبزیاں، پھل پھول اُگتے ہیں
وہ سب ننگے کیوں ہوتے ہیں؟"
یا یہ کہ
" یہ جو انکل ہیں، یہ آخر کس قسم کے پیڑ سے توڑے گئے تھے؟"
" یہ آنٹی کس طرح کی بیل پہ لٹکی ہوئی تھیں؟"
میرے چاروں طرف
کدّو ، کریلے ، اور بیگن تھے
کوئی لوکی ، کوئی بھنڈی ، کوئی توری ، کوئی گوبھی
کوئی پھیکا، کوئی کڑوا ، کوئی چپکُو ، کوئی بھدّا
سوالوں سے بھری آنکھیں
میرے ذہنی اُفق پہ اس طرح کا پینٹ کرتی تھیں
کہ میں لوگوں سے ڈرنے لگ گئی تھی
ابھی تک
سبزیاں کھانا
مُجھے اچھا نہیں لگتا !!!
ثمینہ تبسُم

جہنُم !!!


 تُم بھوکے رہو
پیاسے رہو
ترستے رہو
تاکہ
تُمہیں اندازہ ہو
اُس بھوک کا
اُس پیاس کا
اُس طلب کا
جو میری رُوح محسوس کرتی ہے
جب میں بڑی بڑی یُونیورسٹیاں دیکھتی ہوں
جب میں لائیبریری میں جا کر گُم سُم ہو جاتی ہوں
جب میں اپنی کم علمی پہ تڑپتی ہوں
مُجھ سے پُوچھو
محرومی کیا ہوتی ہے

ثمینہ تبسُم

کب آؤ گے ؟


 بے خُودی
مستیاں
خُوشبُوئیں لے کے دل میں دھڑکتا ہُوا
ایک آسُودہ خواہش کا مہکا بدن

نرم ہاتھوں پہ دُلہن سی مہکی ہُوئی
اک سُہاگن کی سُرخ و سیاہ مہندیاں
اس کی نازُک کلائیوں میں چھن چھن چھنکتی ہوئی
کانچ کی نیلی، پیلی، ہری چُوڑیاں
اپنے ساجن کی ہر پیش قدمی پہ شرما کے خُود میں سمٹتا ہُوا
وصل کی خُوشبُؤں سے دہکتا ہوا
اُس کا نازُک بدن
اور بستر کی شِکنوں میں چھُپ چھُپ کے ہنستی ہوئی
سُرخ پھولوں کی جادُو اثر پتیاں
اور اس خواب کو سوچ کر رات دن
بین کرتا ہُوا
اک سِپاہی کی بیوی کا خالی صحن !!!
ثمینہ تبسُم

جہالت !!!


 مُجھے بھی شرم آتی ہے
مگر کہنا ہی پڑتا ہے
کہ چُپ رہ کر میں جو کُچھ دیکھتی سُنتی ہوں
اُس کو سہہ نہیں سکتی

میں بیٹی ہوں
بہن بھی ہوں
میں اک ماں ہوں
میرے لوگوں کا کہنا ہے
مُجھے یہ چاہیئے کہ میں
نظر نیچی کئیے
چُپ کر کے
ہر اک بات کو سُن کر
دُوپٹہ مُنہ پہ رکھ لوں
دانت میں اُنگلی دبا کر شرم کے مارے
اندھیری کوٹھری میں جا چُھپوں
اور جسم کے حیرت کدے میں
دھیرے دھیرے کھل رہی
خواہش کی کلیاں چُن کے اپنے آپ کو سیراب کر لوں
جہالت کے یہ کیڑے جو میرے نازُک بدن کو کھا رہے ہیں
جو امراضِ پوشیدہ میرے اندر پل رہے ہیں
اُنھیں اگلی نسل میں مُنتقل کر کے
اندھیری کوٹھری میں جان دے دُوں
میں انساں ہوں
میں جسمانی مریضہ ہوں
مُجھے تعویز گنڈوں کی
یا جادُو منتروں کی آگ میں جھونکو گے
سب برباد کر دو گے
مُجھے صدیاں لگی ہیں یہ اندھری کوٹھری مسمار کرنے میں
تو اب چُپ چاپ سر پہ مشرقیت کا سُنہرا تاج پہنے بیٹھنا مُمکن نہیں ہے
ثمینہ تبسُم

ڈپریشن !!!


 آج مُجھے یوُں لگا
جیسے آیئنے کے سامنے کھڑی
میں خُود کو پہچاننے سے قاصر ہوں
وہ میرے سامنے کھڑی تھی
ہونٹوں پہ ایک خُوبصورت مُسکراہٹ سجائے
آنکھوں میں بے پناہ مُحبت لئے
اُس نے بہت شوق سے مُجھے پُکارا
اور دونوں باہیں پھیلا کر اپنے سینے سے لگا لیا
میں پتھر کی طرح سرد تھی
اُس کا لمس اجنبی نہیں تھا
وہ گرم جوشی بھی جعلی نہیں تھی
اور اچانک مُجھے اُسکا نام یاد آگیا
جیرالڈ سٹریٹ پہ واقع وہ اورگنائزیشن بھی
جہاں ایک کورس کے سلسلے میں، میں اُس کے ساتھ تھی
لاھور تکہ ہاؤس کا کھانا بھی
اور اُس کے بعد
ایک گہری تاریکی
جب اُس نے میری سردمہری محسوس کی اور مُجھے خُود سے الگ کیا
تو اُس کی آنکھوں میں حیرت تھی
اُلجھن تھی
اور بہت سارے سوال
مگر میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا
صرف یہ یاد ہے
کہ اُس وقت
نروس بریک ڈاؤن کے بعد میں شدید ڈپریشن سے گُزر رہی تھی
صرف ایک سرٹیفیکیٹ یے
جو اُس کورس کی یاد دلاتا ہے جس میں وہ میرے ساتھ تھی
میری زندگی کا پُورا ایک سال ؟
وہ سب میں کیسے بھول گئی ؟
مُجھے نہیں پتہ
اب میرے پاس بہت سے سوال ہیں
لیکن سمجھ نہیں آتی بات کہاں سے شروع کروں ؟؟؟
ثمینہ تبسُم

بولنے والی !!!


 وہ کہتے ھیں
کہ جو عورت
بڑی بن ٹھن کے تصویریں کھچاتی ھے
یا اپنی *وال پہ اُن کو لگاتی ھے
وہ مردوں کو پھنساتی ھے

“ تو کیا تُم سارے پھنستے جا رھے ھو ؟“
میرے لوگو
مُجھے مذہب
یا اپنے سڑ رھے رسموں رواجوں کے
کسی بازار میں لاکر کھڑا کر دو
مُجھے کُچھ بھی کہو
الزام دو
چاھو
سراھو
گالیاں بک دو
مٰگر میں خُوش
بہت خُوش ھوں
میں اپنی ذات سے آگے
بہت آگے نکل کر سوچتی ھوں
مُجھے تُم سے مُحبت ہے
کہ تُم سچ بولنے والی کسی عورت سے اتنا پیار کرتے ھو
کہ چاھو بھی
تو اب ھرگز
نظر انداز کرنے کی
کوئی کوشش نہیں کرتے
*فیس بُک
ثمینہ تبسُم

فانی !!!


 مُجھے
میرے نہ ہونے کا خوف
اور اس دُنیا کے
میریے بغیر بھی
چلتے رہنے کا اندیشہ
سونے نہیں دیتا

کیا ہو گا آخِر ؟
میرے اس اتنے جتنوں سے کمائے ہوئے پیسے کا
میری جائیداد
میری کاریں
میری کوٹھیاں
کیا اس گھٹیا اور دو کوڑی کی دُنیا میں رہ جایئں گی؟
میرا یہ خُوبصورت
فولاد جیسا جسم
میری طاقت
میری جوانی
سب اک دو گز کی قبر میں مٹی ہو جائے گا ؟؟
نہیں نہیں
ہرگز نہیں
مُجھے نہیں مرنا
کبھی نہیں مرنا
ثمینہ تبسُم

Tuesday, 23 September 2014

نا جائز !!!


بہت اُلجھی ہوئی ہوں
بہت سہمی ہوئی ہوں
میری سوچوں کا ملبہ خُود مُجھی پہ گر رہا ہے
سوالوں کی جو گٹھری اس جواں بچی کے پھولے پیٹ میں پلتی ہے
اُس کی کرب سے پھٹتی ہوئی آنکھون سے دکھتی ہے
اذیت کے تشنُج سے وہ خُوں آلود ناخُونوں سے خُود کو مارے دیتی ہے
کوئی ایسا نہیں جو اُس کو سینے سے لگا کے تھوڑی ڈھارس دے
کوئی اس سے کہے کہ چند ہی گھنٹوں میں وہ اس درد سے آزاد ہو گی
مگر کوئی بھی اُس سے کُچھ نہیں کہتا
نہ اُس کے پاس رُکتا ہے
سبھی کترا کے
اپنے ناک منُہ پہ ہاتھ رکھ کے یوں گُزرتے ہیں
کہ جیسے گندگی کی پوٹ
وہ کیڑوں بھری لڑکی اُنھیں برباد کر دے گی
" طوائف ہے "
یہ سرگوشی کلینک کے فرش پہ سر پٹکتی بین کرتی ہے
تو یہ بدحال اور بدذات چھوری آج سے کُچھ ماہ پہلے تک
کسی بستر پہ چادر بن کے بچھتی تھی
یہاں اس حال میں ہے کہ
زمیں پھٹتی ہے نہ یہ آسماں گرتا ہے اس چنڈال چھوری پہ
یہ بچہ اس جہاں میں آکے کسطرح سے خُود کو یہ بتائے گا
کہ وہ ناپاک ہے
گندہ ہے
ناجائز غلاظت ہے
نہ اُس کا باپ ہے کوئی
نہ اُس کی ماں کا شوہر ہے
کسی کو اُس سے
اُس کی ماں سے ہمدردی نہیں ہے
تو اب میں سر کو تھامے سوچتی ہوں
اگر یوم _ حشر ہر فرد اپنی ماں کے پہلے نام کی تختی لئے جاگے گا تو
یہ کس کا بچہ ہے ؟
یہ جائز یا نا جائز ہے
یہ سارے فیصلے اک ماں کرے گی؟
مگر یہ بات دُنیا کی سمجھ مین کیوں نہیں آتی؟
بہت اُلجھی ہوئی ہوں
میری سوچوں کا ملبہ خُود مُجھی پہ گر رہا ہے
ثمینہ تبسُم

مجازی خُدا !!!


میرے کُچھ کہنے سے پہلے
تُم مُجھے سُنتے ہو
کُچھ مانگنے سے پہلے 
نوازتے ہو
میری تنہائی میں
میرا سہارا ھو
اور ہجُوم میں
میرے واحد ساتھی ہو
تُمہاری ایک نظر
مُجھے مالا مال کردیتی ہے
تُمہارا لمس
مُجھ میں حرف کُن پھونک دیتا ہے
مُجھے دیکھ کر
تُمہاری آنکھیں شدت جذبات سے بھیگ جاتی ہیں
اور یہ نمی میری رُوح کو سیراب رکھتی ہے
تُم میرے ہونے کی وجہ ہو
میری جان
میرے لیئے تُم مُحبت کے خُدا ہو
اور میں مُحبت میں بھی توحید کی قائل ہوں
ثمینہ تبسُم

معذرت کے ساتھ !!!


میں مُعافی چاہتی ہوں پر
اصل مسلئہ نہ غُربت ہے
جہالت ہے
نُمائش ہے
کرپشن ہے
اصل مسلئہ ہمی خُود ہیں
ہم اپنے نفس کے اندھے کنویئں میں قید مینڈک ہیں
زبانیں تو بہت چلتی ہیں
باتیں خُوب بنتی ہیں
مگر جب وقت آتا ہے دیواروں کے گرانے کا
تو اپنی ذات سے باہر ہمیں کُچھ بھی نہیں دکھتا
کہ شوہ بازی کے جس رستے پہ اب ہم چل پڑے ہیں
وہاں پہ ڈگریاں ہم سے کرپشن ہی کراتی ہیں
کوئی قائد ، کوئی اقبال کی تصویر کے آگے کھڑا ہو کر
ہمارا اصل خدمت گار ہونے کے بہت نعرے لگاتا ہے
اصل میں وہ مداری ہے
ہمیں روٹی کے اک ٹُکڑے یا چادر ، چار دیواری کی لے پہ یوں نچاتا ہے
کہ جیسے ڈُگڈُگی کی لے پہ بندر جُھوم جاتے ہیں
تو اپنی مستیوں میں مست ہم وہ قوم ہیں جس کو
ہمیشہ یاد رکھنا ہے
ہم اپنے گھر میں جو کُچھ ہیں
ہمارے پاس جو کُچھ ہے
وہ پاکستان کا بخشا ہوا ہے
کبھی فُرصت ملے تو سوچئیے گا
کہ پاکستان کو ہم نے ۔۔۔۔۔ دیا کیا ہے ؟
ثمینہ تبسُم

میرے لوگو !!!


خُدا کی مہربانی ہے
میرے رب نے مُجھے بےحد نوازا ہے
یہاں پردیس میں مُجھ کو ہر اک نعمت مُیسر ہے
مگر یہ دل بہت بے چین رہتا ہے
سسکتا ہے
مچلتا ہے
اُنھی گلیوں میں ننگے پاؤں پھرنے کو
جہاں میں نے میرے بچپن جوانی کے سُنہرے دن گُزارے تھے
وہاں کی بارشوں میں بھیگ کر بیمار پڑنے اور بہتی ناک چادر میں سُڑکنے کو
وہاں ہر عُمر اور سائز کے بچوں سے بھرے صحنوں میں اُن کا شور سُننے کو
وہاں باورچی خانوں سے نکلتی خُوشبوُؤں میں سانس لینے کو
وہاں پہ کوسنے دیتی ہوئی ماؤں پہ باپوں کے بگڑنے کا بہت دلچسپ منظر دیکھنے اور اُن پہ ہنسنے کو
وہاں فُرصت سے بیٹھے اُونگتے بُوڑھوں سے آُن کی نوجوانی میں ہوئے قصوں کے سُننے کو
بڑے چھوٹوں سے بالکل مُفت ملتے مشورے بڑھ بڑھ کے لینے کو
بہت ہی دل مچلتا ہے
تڑپتا ہے
سسکتا ہے
میرے لوگو
میں جیسی ہوں
جہاں بھی ہوں
تُمہی سے ہوں
میں تُم سے پیار کرتی ہوں
ثمینہ تبسُم

آج کل ان اسلام آباد !!!


" سُنتے ہو جی کیا کہتی ہُوں ؟ "
" کیا کہتی ہو ؟ "
" کب آؤ گے ؟ "
" جب تُم چاہو "
" سچ کہتے ہو ؟ "
" سچ کہتا ہوں "
" مت جاؤ ناں "
" لو نہیں جاتا "
" فُون کرو کہ دھرنے پہ ہو ۔۔۔ آ نہیں سکتے "
" کر دیتا ہوں ۔۔۔۔ تُم تو میری جان ہو جانم ۔۔۔ آجاؤ ناں "
" چھوڑو بھی یہ چُوما چاٹی ۔۔۔۔ اس سے پہلے بتی جائے کپڑے دھو لو "
" آلو گوشت بنا کے تُم بھی آجانا ریڈ زون کے اندر "
" پہلے ہم تقریر سُنیں گے ۔۔۔ نعرے بازی بھی کر لیں گے "
" پھر کل کس نے کیا کرنا ہے ۔۔۔ ڈسکس کر کے گھر آئیں گے "
" سُنتے ہو جی ۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ تبسُم

Saturday, 13 September 2014

عمران خان !!!


سُنو
کل تک جو مٹی اپنے ماتھے سے لگا کر
اک نظر تُم آسمانوں کی طرف تکتے تھے
بازی جیت لیتے تھے
اُسی مٹی میں ہم نے اپنی نسلوں کا مُقدر بو دیا ہے
تو اب تُم ہو
یہ دھرتی ماں ہے
اللہ ہے
تو خالی ہاتھ مت آنا
کہ ہم سب نے
تُمہارے نام کی چادر کا جو جھنڈا بنایا ہے
اُسے ہم نے نئی صُبح کے سُورج سے سجانا ہے
قدم آگے بڑھانا تُم
کہ خالی ہاتھ مت آنا
کہ خالی ہاتھ مت انا
ثمینہ تبسُم

پاکستان زندہ باد !!!



ہم جو بھی ہیں
ہم جیسے ہیں
ہم سارے پاکستانی ہیں
آپس کے جھگڑے ایک طرف
سب مسلئے مسائل ایک طرف
جب بات ہو پاکستان کی تو
تن من دھن سے سب ایک طرف
ہم کل بھی تھے
ہم آج بھی ہیں
باقی سب آتے جاتے ہیں
خدمت گاروں کو ہم نے اب سوچ سمجھ کے چُننا ہے
اگلی نسلوں کے لیئے نیا اک پاکستان بنانا ہے
ہم پاکستان کے دم سے ہیں
ہم جو بھی ہیں
ہم جیسے ہیں
ہم سارے پاکستانی ہیں
ثمینہ تبسُم

مُکافات عمل !!!


عمران خان
ذرا ٹھہرو
اب اس سے بیشتر کہ تُم فتح کا تاج پہنو
اب اس سے بیشتر کہ تُم بھی تکبر کے کسی رستے پہ چل نکلو
اور اس سے بیشتر کہ تُم بھُول جاؤ کہ تُم ہمارے خدمت گار ہو
ایک بار خُود سے پُوچھ لو
کہ تُم سے بیشتر جو لوگ تھے
وہ کون تھے ?
کہاں سے آئے تھے ?
اور اب کہاں ہیں ?
اور خُود کو یاد دلاؤ
وہ سب نعرے
جو بےشُمار مُردہ ہونٹ مرنے سے ذرا پہلے لگاتے تھے
وہ سب آنکھیں
جو مٹی میں دفن ہو کے بھی زندہ ہیں
وہ سب وعدے
جو وقت کی سُولیوں پہ لٹکے تُمہاری راہ تکتے ہیں
اور یاد رکھنا
کہ خُدا سب سے بڑا مُنصف ہے
ثمینہ تبسُم

پریگننٹ !!!


سوتے سوتے جاگ رہی ہوں
جاگی جاگی سوئی پڑی ہوں
روتے روتے ہنس پڑتی ہوں
ہنستے ہنستے ڈر جاتی ہوں
بس نہیں چلتا
لیکن بھر پھی
دل کرتا ہے
اپنی ناف سے جھانک کے دیکھوں
آخر میرا
سوہنا موہنا
گُوچُو مُوچُو
کیا کرتا ہے ؟
جب بھی اُس کی ننھی کوہنی یا بھر گُھٹنا
میری پسلی میں چُبھتا ہے
دل دُکھتا ہے
میرا بجہ کیا چاہتا ہے ؟
بھُوک لگی ہے ؟
چھی چھی کی ہے ؟
گھُپ اندھیرے میں ڈرتا ہے ؟
اتنی تنگ جگہ پہ اُس کا دم گھُٹتا ہے ؟
آخر کیا ہے ؟
بُوجھتی ہوں
باتیں کرتا ہے
کہتا ہے،
” میں ٹھیک ہوں امی “
” خُوش ہوں امی “
” اک دن آپ کی گود میں آکر آپ کا بیٹا بن جاؤں گا “
ہنس پڑتی ہوں
رو پڑتی ہوں
سوچتی ہوں
پھر ڈر جاتی ہوں
یعنی اب میں دو رُوحی ہوں ؟

شادی ؟


اٹھارہ سال کی ہوں
اور میرا پاؤں بھاری ہے
میرے شوہر
جو چالیس سال سے زیادہ عُمر کے ہیں
بہت ناخُوش ہیں
مُجھ سے اور اس دو ماہ کے بچے سے
جو اس دُنیا میں آیا بھی نہیں ہے
وہ کہتے ہیں
” میرے پہلے سے چھ بچے ہیں
اور دو بیویاں بھی ہیں
بہت مہنگائی ہے
کیسے بھلا میں سب کو پالوں گا
تُمہاری عُمر ہی کیا ہے
تُم اتنی خُوبصُورت ہو
کمر پتلی
تنی چھاتی
مُجسم حور لگتی ہو
یہ بچہ جسم کی جادوگری برباد کر دے گا
صُبح میں فُون کر دوں گا کلینک پہ
دفع کر دو مُصیبت یہ
پھر اس کے بعد ہم کشمیر میں کُچھ دن گُزاریں گے
تُمہیں شاپنگ کراؤں گا
نیا زیور دلاؤں گا
میری جاں یاد رکھنا کہ مُجھے تُم سے مُحبت ہے “
پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟
یہی ہوتا رہے گا کیا ؟
اسی کا نام شادی ہے ؟
سوالوں کی یہ گٹھڑی
کوکھ میں پلتے ہوئے بچے کی نازُک پیٹھ پہ رکھے
میں اپنی ماں کے گھر آنگن میں بیٹھی بین کرتی ہوں
اٹھارہ سال کی ہوں
اور میرا پاؤں بھاری ہے
ثمینہ تبسُم