Saturday, 13 September 2014

پاکستان زندہ باد !!!



ہم جو بھی ہیں
ہم جیسے ہیں
ہم سارے پاکستانی ہیں
آپس کے جھگڑے ایک طرف
سب مسلئے مسائل ایک طرف
جب بات ہو پاکستان کی تو
تن من دھن سے سب ایک طرف
ہم کل بھی تھے
ہم آج بھی ہیں
باقی سب آتے جاتے ہیں
خدمت گاروں کو ہم نے اب سوچ سمجھ کے چُننا ہے
اگلی نسلوں کے لیئے نیا اک پاکستان بنانا ہے
ہم پاکستان کے دم سے ہیں
ہم جو بھی ہیں
ہم جیسے ہیں
ہم سارے پاکستانی ہیں
ثمینہ تبسُم

مُکافات عمل !!!


عمران خان
ذرا ٹھہرو
اب اس سے بیشتر کہ تُم فتح کا تاج پہنو
اب اس سے بیشتر کہ تُم بھی تکبر کے کسی رستے پہ چل نکلو
اور اس سے بیشتر کہ تُم بھُول جاؤ کہ تُم ہمارے خدمت گار ہو
ایک بار خُود سے پُوچھ لو
کہ تُم سے بیشتر جو لوگ تھے
وہ کون تھے ?
کہاں سے آئے تھے ?
اور اب کہاں ہیں ?
اور خُود کو یاد دلاؤ
وہ سب نعرے
جو بےشُمار مُردہ ہونٹ مرنے سے ذرا پہلے لگاتے تھے
وہ سب آنکھیں
جو مٹی میں دفن ہو کے بھی زندہ ہیں
وہ سب وعدے
جو وقت کی سُولیوں پہ لٹکے تُمہاری راہ تکتے ہیں
اور یاد رکھنا
کہ خُدا سب سے بڑا مُنصف ہے
ثمینہ تبسُم

پریگننٹ !!!


سوتے سوتے جاگ رہی ہوں
جاگی جاگی سوئی پڑی ہوں
روتے روتے ہنس پڑتی ہوں
ہنستے ہنستے ڈر جاتی ہوں
بس نہیں چلتا
لیکن بھر پھی
دل کرتا ہے
اپنی ناف سے جھانک کے دیکھوں
آخر میرا
سوہنا موہنا
گُوچُو مُوچُو
کیا کرتا ہے ؟
جب بھی اُس کی ننھی کوہنی یا بھر گُھٹنا
میری پسلی میں چُبھتا ہے
دل دُکھتا ہے
میرا بجہ کیا چاہتا ہے ؟
بھُوک لگی ہے ؟
چھی چھی کی ہے ؟
گھُپ اندھیرے میں ڈرتا ہے ؟
اتنی تنگ جگہ پہ اُس کا دم گھُٹتا ہے ؟
آخر کیا ہے ؟
بُوجھتی ہوں
باتیں کرتا ہے
کہتا ہے،
” میں ٹھیک ہوں امی “
” خُوش ہوں امی “
” اک دن آپ کی گود میں آکر آپ کا بیٹا بن جاؤں گا “
ہنس پڑتی ہوں
رو پڑتی ہوں
سوچتی ہوں
پھر ڈر جاتی ہوں
یعنی اب میں دو رُوحی ہوں ؟

شادی ؟


اٹھارہ سال کی ہوں
اور میرا پاؤں بھاری ہے
میرے شوہر
جو چالیس سال سے زیادہ عُمر کے ہیں
بہت ناخُوش ہیں
مُجھ سے اور اس دو ماہ کے بچے سے
جو اس دُنیا میں آیا بھی نہیں ہے
وہ کہتے ہیں
” میرے پہلے سے چھ بچے ہیں
اور دو بیویاں بھی ہیں
بہت مہنگائی ہے
کیسے بھلا میں سب کو پالوں گا
تُمہاری عُمر ہی کیا ہے
تُم اتنی خُوبصُورت ہو
کمر پتلی
تنی چھاتی
مُجسم حور لگتی ہو
یہ بچہ جسم کی جادوگری برباد کر دے گا
صُبح میں فُون کر دوں گا کلینک پہ
دفع کر دو مُصیبت یہ
پھر اس کے بعد ہم کشمیر میں کُچھ دن گُزاریں گے
تُمہیں شاپنگ کراؤں گا
نیا زیور دلاؤں گا
میری جاں یاد رکھنا کہ مُجھے تُم سے مُحبت ہے “
پھر اس کے بعد کیا ہو گا ؟
یہی ہوتا رہے گا کیا ؟
اسی کا نام شادی ہے ؟
سوالوں کی یہ گٹھڑی
کوکھ میں پلتے ہوئے بچے کی نازُک پیٹھ پہ رکھے
میں اپنی ماں کے گھر آنگن میں بیٹھی بین کرتی ہوں
اٹھارہ سال کی ہوں
اور میرا پاؤں بھاری ہے
ثمینہ تبسُم

کزن میرج !!!


ہسپتال کا کمرہ
قبر جیسا لگتا ہے
آسمان ٹُوٹا ہے
آج یوم ـ محشر ہے
جسم پہ تشننُج ہے
ایڑیاں رگڑتی ہوں
درد اسقدر ہے کہ
جاں نکلنے والی ہے
یاد ہے مُجھے وہ دن
اپنے حمل کا سُن کے
میں خُوشی سے پاگل تھی
ڈاکٹر یہ کہتی تھی
معجزہ ہے یہ کوئ
میرے پیٹ میں میرے
پہلے پہلے بچے کی
میٹھی میٹھی حرکت تھی
مُجھ کو ایسا لگتا تھا
میری بند مُٹھی میں
جیسے کوئی تتلی ہو
روز اک نیا دن تھا
روز اک کہانی تھی
کتنی معتبر تھی میں
میرے پاؤں کے نیجے
جنت آنے والی تھی
سب کو ایسا لگتا تھا
دن بدن نکھرتی ہوں
چاند جیسا چہرہ ہے
تارا تارا آنکھیں ہیں
کہکشاں پہ چلتی ہوں
آسماں کو چُھوتی ہوں
نظر بد نہ لگ جائے
ہونے والے بچے کو
روز آیت الکُرسی
پڑھ کے پُھونک لیتی تھی
صدقہ دیتی رہتی تھی
اور دُعائیں کرتی تھی
پانچواں مہینہ تھا
اور خُوش تھی میں کہ اب
چند ہی مہینوں میں
ایک چاند سا بیٹا
میری گود میں ہوگا
پر نصیب کا لکھا
کون ٹال سکتا ہے
کیا بُری گھڑی تھی وہ
درد کی کٹاری سے
رُوح بھی چیخ اُٹھی تھی
جسم خُون میں تر تھا
میری جان کا ٹُکڑا
میرا بجہ مُردہ تھا
ڈاکٹر کا کہنا ہے
نسل در نسل اکثر
فیملی میں شادی سے
اس طرح سے ہوتا ہے
خُوں کا کمبی نیشن کُچھ
اس طرح بگڑتا ہے
کہ حمل ٹھہرتا ہے
اُس میں جاں بھی پڑتی ہے
پر وہ جی نہیں سکتا
بجہ ہو نہیں سکتا
آسمان ٹُوٹا ہے
ہسپتال کا کمرہ
قبر جیسا لگتا ہے
ثمینہ تبسُم

Sunday, 24 August 2014

عمران خان !!!


سُنو
کل تک جو مٹی اپنے ماتھے سے لگا کر
اک نظر تُم آسمانوں کی طرف تکتے تھے
بازی جیت لیتے تھے
اُسی مٹی میں ہم نے اپنی نسلوں کا مُقدر بو دیا ہے
تو اب تُم ہو
یہ دھرتی ماں ہے
اللہ ہے
تو خالی ہاتھ مت آنا
کہ ہم سب نے
تُمہارے نام کی چادر کا جو جھنڈا بنایا ہے
اُسے ہم نے نئی صُبح کے سُورج سے سجانا ہے
قدم آگے بڑھانا تُم
کہ خالی ہاتھ مت آنا
کہ خالی ہاتھ مت انا
ثمینہ تبسُم

Saturday, 23 August 2014

فیس بُک فیملی !!!



کسی کو کیا بتانا ہے
کسی سے کیا چُھپانا ہے
کسی نے کس کو کیا لکھا
کسی نے کیوں نہیں لکھا

ارے بابا !!!
یہ سب کُچھ سوچنا میرے لیئے ممکن نہیں ہے
میرے بس میں تو بس یہ ہے...
مُحبت سے مُحبت کے لیئے سوچوں
دلوں کو جوڑ کے رکھنا
مُحبت ہے
مُحبت ہے
کسی رُوٹھے کو منٹوں میں منا لینا
مُحبت ہے
مُحبت ہے
دُکھی چہروں کو گہری مُسکراہٹ سے سجا دینا
مُحبت ہے
مُحبت ہے
کُھلے دل سے مُحبت کے لیئے جینا بھی آفاقی مُحبت ہے
یہی ہے جو میں کر سکتی ہوں
کرنا چاہتی ہوں
مُحبت ہوں
مُحبت ہوں

ثمینہ تبسُم