Saturday, 23 August 2014

دھرتی ماں !!!


ہم حاظر ہیں
اے ماں
قسم سے حاضر ہیں
جب بات ہماری جاں کی تھی
خاموش رہے
اب بات تیری عزت کی ہے
اب خاموشی اک لعنت ہے
اے ماں
تیرے آنچل کی حرمت بہ...
جان بھی جاے
دے دیں گے
ہم تن من دھن سے حاظر ہیں
اے ماں
قسم سے حاظر ہیں
ثمینہ تبسم

وٹس اپ اللہ جی ???



یہ جو آپ ہر ُکچھ دن کے بعد
میری زندگی میں
ایک نیا ڈرامہ شُروع کر دیتے ہو
آخر آپ کیا چاہتے ہو ?

آپ کی کہانی
آپ کا ہیرو
آپ کی ہیروئین...
دونوں کے مسلئے
ظالم سماج
بہت مزہ آتا ہے ناں آپ کو اس سب کنفیوژن سے ?
مُجھے بتایئے ناں
اب یہ میرا جھلا سا مجنوں
میرا سوہنا
میرا رانجھا
میرا سُوئیٹ ہارٹ
میری جان
کیا کروں گی میں اُس کا???
مُجھے مسلہ کوئی نہیں ہے
مگر پھر بھی
ذرا کُھل کے بتائیے
بہت مزہ آتا ہے ناں آپ کو مُجھے اس چکر میں پھنسا کے??
جُونہی مُجھے لگتا ہے کہ اب سب ٹھیک ہے
آپ ٹھک سے صفحہ پلٹ دیتے ہو کہانی کا
آللہ جی
آخر آپ کیا چاہتے ہو???

ثمینہ تبُسم

ماڈرن ہیر !!!



تُم جو ہو نا
بڑے خراب ہو تُم
ایم سی، پی سی تُمہاری باتوں سے
بائی گوڈ آئی ہیو کرش اون یُو

ماڈرن ہیر
ماڈرن رانجھا
پیار کی سیر گاہ میں آکر...
ساری ڈیوائسسز کے بُوتے پہ
خُفیہ نمبروں سے گُوندھ کر دونوں
روز کھاتے ہیں پیار کی چُوری
فیس بُک فیملی کے ریوڑ کو
عشق کے کھیت میں چراتے ہیں
سارے ہیکرز.... ماڈرن قیدُو
اور سب ایپ .... ماڈرن کھیڑے
کہنا
سُننا
دیکھانا
سب کرنا
مست ہیں بانسری بجاتے ہیں

دیکھا بس اس لیئے میں کہتی ہوں
ایم سی , پی سی
تُمہاری باتوں نے
ساری تاریں میری ملا دی ہیں

ثمینہ تبُسم

سالگرہ !!!

 


میں اپنی ماں کی چوتھی بیٹی ہوں
مُجھے مانگا نہیں گیا
مُجھے چاہا نہیں گیا
میری سالگرہ کبھی نہیں منائی گئی
اور یہ دُکھ میری ذات کا حصہ بن گیا

اب ہر سال
جب میری بیٹی مُجھے گلے لگا کر کہتی ہے...
" امی ۔۔۔ مُجھے آپ پہ فخر ہے ۔۔۔ میں آپ سے بہت مُحبت کرتی ہوں "
تو میرے دل پہ گرتے آنسُو
ایک شرمیلی سی مُسکراہٹ میں تبدیل ہو جاتے ہیں
میری آنکھیں جگمگا اُٹھتی ہیں
اور میں خُود سے کہتی ہوں
" سالگرہ مُبارک ہو "

ثمینہ تبسُم

رُوحانی خُودکُشی !!!



تُمہیں مُجھ سے مُحبت ہے
مُجھے تُم سے مُحبت ہے
یہی سچ ہے
یہی حق ہے
مُحبت سے بڑا رشتہ نہیں ہے

تو جان_ جاں
ہمارے درمیاں جو ہے...
اُسے دُنیا کی نظروں سے نہیں دیکھو
کہ دُنیا تو خُدا کے سامنے دھرنا دیئے بیٹھی ہے صدیوں سے
وہ مذہب کی پٹاری سے
کوئی فتوی‘ نکالے گی
ہمیں سنگسار کر دے گی

" مُحبت پتھروں کی بارشوں سے مر نہیں جاتی "

ابھی بھی وقت ہے جاناں
چلو ۔۔۔ واپس پلٹ جائیں
تُم اپنے سرد کمرے میں اکیلے بیٹھ کے رونا
میں اپنی آگ میں جل جل کے خُود کو راکھ کر لُوں گی

" رُوحانی خُود کُشی کا ذمہ اس دُنیا کے سر ہو گا "

ہمارے درمیاں جو ہے
وہ مُردہ قبرکا کُتبہ نہیں ہے
وہ اک زندہ حقیقت ہے
اُسے دُنیا کی نظروں سے نہیں دیکھو
کہ دُنیا تو ۔۔۔۔۔۔۔

ثمینہ تبسُم

Monday, 11 August 2014

مُحبتی !!!



میں وہ راز ہوں
میں وہ آگ ہوں
میں وہ داغ ہوں 
میرے بھولییا

جو نہ کُھل سکا
جو نہ بُجھ سکا
جو نہ دُھل سکا
میرے کملییا

میں خیال ہوں
میں سراب ہوں
میں شباب ہوں
میرے رانجھیا

نہ سمٹ سکوں
نہ ہی مل سکوں
نہ ٹھہر سکوں
میرے ہیریئیا

مُجھے اپنا کر
مُجھے پیار کر
مُجھے دل میں رکھ
میرے سوہنییا

میں مُحبتی
میں مُحبتی
میں مُحبتی
میرے جوگیا

ثمینہ تبسُم

دھرتی ماں !!!


ہم حاظر ہیں
اے ماں
قسم سے حاظر ہیں
جب بات ہماری جاں کی تھی
خاموش رہے
اب بات تیری عزت کی ہے
اب خاموشی اک لعنت ہے
اے ماں 
تیرے آنچل کی حرمت بہ
جان بھی جاے
دے دیں گے
ہم تن من دھن سے حاظر ہیں
اے ماں
قسم سے حاظر ہیں
ثمینہ تبسم