Tuesday, 11 November 2014

فانی !!!


 مُجھے
میرے نہ ہونے کا خوف
اور اس دُنیا کے
میریے بغیر بھی
چلتے رہنے کا اندیشہ
سونے نہیں دیتا

کیا ہو گا آخِر ؟
میرے اس اتنے جتنوں سے کمائے ہوئے پیسے کا
میری جائیداد
میری کاریں
میری کوٹھیاں
کیا اس گھٹیا اور دو کوڑی کی دُنیا میں رہ جایئں گی؟
میرا یہ خُوبصورت
فولاد جیسا جسم
میری طاقت
میری جوانی
سب اک دو گز کی قبر میں مٹی ہو جائے گا ؟؟
نہیں نہیں
ہرگز نہیں
مُجھے نہیں مرنا
کبھی نہیں مرنا
ثمینہ تبسُم

Tuesday, 23 September 2014

نا جائز !!!


بہت اُلجھی ہوئی ہوں
بہت سہمی ہوئی ہوں
میری سوچوں کا ملبہ خُود مُجھی پہ گر رہا ہے
سوالوں کی جو گٹھری اس جواں بچی کے پھولے پیٹ میں پلتی ہے
اُس کی کرب سے پھٹتی ہوئی آنکھون سے دکھتی ہے
اذیت کے تشنُج سے وہ خُوں آلود ناخُونوں سے خُود کو مارے دیتی ہے
کوئی ایسا نہیں جو اُس کو سینے سے لگا کے تھوڑی ڈھارس دے
کوئی اس سے کہے کہ چند ہی گھنٹوں میں وہ اس درد سے آزاد ہو گی
مگر کوئی بھی اُس سے کُچھ نہیں کہتا
نہ اُس کے پاس رُکتا ہے
سبھی کترا کے
اپنے ناک منُہ پہ ہاتھ رکھ کے یوں گُزرتے ہیں
کہ جیسے گندگی کی پوٹ
وہ کیڑوں بھری لڑکی اُنھیں برباد کر دے گی
" طوائف ہے "
یہ سرگوشی کلینک کے فرش پہ سر پٹکتی بین کرتی ہے
تو یہ بدحال اور بدذات چھوری آج سے کُچھ ماہ پہلے تک
کسی بستر پہ چادر بن کے بچھتی تھی
یہاں اس حال میں ہے کہ
زمیں پھٹتی ہے نہ یہ آسماں گرتا ہے اس چنڈال چھوری پہ
یہ بچہ اس جہاں میں آکے کسطرح سے خُود کو یہ بتائے گا
کہ وہ ناپاک ہے
گندہ ہے
ناجائز غلاظت ہے
نہ اُس کا باپ ہے کوئی
نہ اُس کی ماں کا شوہر ہے
کسی کو اُس سے
اُس کی ماں سے ہمدردی نہیں ہے
تو اب میں سر کو تھامے سوچتی ہوں
اگر یوم _ حشر ہر فرد اپنی ماں کے پہلے نام کی تختی لئے جاگے گا تو
یہ کس کا بچہ ہے ؟
یہ جائز یا نا جائز ہے
یہ سارے فیصلے اک ماں کرے گی؟
مگر یہ بات دُنیا کی سمجھ مین کیوں نہیں آتی؟
بہت اُلجھی ہوئی ہوں
میری سوچوں کا ملبہ خُود مُجھی پہ گر رہا ہے
ثمینہ تبسُم

مجازی خُدا !!!


میرے کُچھ کہنے سے پہلے
تُم مُجھے سُنتے ہو
کُچھ مانگنے سے پہلے 
نوازتے ہو
میری تنہائی میں
میرا سہارا ھو
اور ہجُوم میں
میرے واحد ساتھی ہو
تُمہاری ایک نظر
مُجھے مالا مال کردیتی ہے
تُمہارا لمس
مُجھ میں حرف کُن پھونک دیتا ہے
مُجھے دیکھ کر
تُمہاری آنکھیں شدت جذبات سے بھیگ جاتی ہیں
اور یہ نمی میری رُوح کو سیراب رکھتی ہے
تُم میرے ہونے کی وجہ ہو
میری جان
میرے لیئے تُم مُحبت کے خُدا ہو
اور میں مُحبت میں بھی توحید کی قائل ہوں
ثمینہ تبسُم

معذرت کے ساتھ !!!


میں مُعافی چاہتی ہوں پر
اصل مسلئہ نہ غُربت ہے
جہالت ہے
نُمائش ہے
کرپشن ہے
اصل مسلئہ ہمی خُود ہیں
ہم اپنے نفس کے اندھے کنویئں میں قید مینڈک ہیں
زبانیں تو بہت چلتی ہیں
باتیں خُوب بنتی ہیں
مگر جب وقت آتا ہے دیواروں کے گرانے کا
تو اپنی ذات سے باہر ہمیں کُچھ بھی نہیں دکھتا
کہ شوہ بازی کے جس رستے پہ اب ہم چل پڑے ہیں
وہاں پہ ڈگریاں ہم سے کرپشن ہی کراتی ہیں
کوئی قائد ، کوئی اقبال کی تصویر کے آگے کھڑا ہو کر
ہمارا اصل خدمت گار ہونے کے بہت نعرے لگاتا ہے
اصل میں وہ مداری ہے
ہمیں روٹی کے اک ٹُکڑے یا چادر ، چار دیواری کی لے پہ یوں نچاتا ہے
کہ جیسے ڈُگڈُگی کی لے پہ بندر جُھوم جاتے ہیں
تو اپنی مستیوں میں مست ہم وہ قوم ہیں جس کو
ہمیشہ یاد رکھنا ہے
ہم اپنے گھر میں جو کُچھ ہیں
ہمارے پاس جو کُچھ ہے
وہ پاکستان کا بخشا ہوا ہے
کبھی فُرصت ملے تو سوچئیے گا
کہ پاکستان کو ہم نے ۔۔۔۔۔ دیا کیا ہے ؟
ثمینہ تبسُم

میرے لوگو !!!


خُدا کی مہربانی ہے
میرے رب نے مُجھے بےحد نوازا ہے
یہاں پردیس میں مُجھ کو ہر اک نعمت مُیسر ہے
مگر یہ دل بہت بے چین رہتا ہے
سسکتا ہے
مچلتا ہے
اُنھی گلیوں میں ننگے پاؤں پھرنے کو
جہاں میں نے میرے بچپن جوانی کے سُنہرے دن گُزارے تھے
وہاں کی بارشوں میں بھیگ کر بیمار پڑنے اور بہتی ناک چادر میں سُڑکنے کو
وہاں ہر عُمر اور سائز کے بچوں سے بھرے صحنوں میں اُن کا شور سُننے کو
وہاں باورچی خانوں سے نکلتی خُوشبوُؤں میں سانس لینے کو
وہاں پہ کوسنے دیتی ہوئی ماؤں پہ باپوں کے بگڑنے کا بہت دلچسپ منظر دیکھنے اور اُن پہ ہنسنے کو
وہاں فُرصت سے بیٹھے اُونگتے بُوڑھوں سے آُن کی نوجوانی میں ہوئے قصوں کے سُننے کو
بڑے چھوٹوں سے بالکل مُفت ملتے مشورے بڑھ بڑھ کے لینے کو
بہت ہی دل مچلتا ہے
تڑپتا ہے
سسکتا ہے
میرے لوگو
میں جیسی ہوں
جہاں بھی ہوں
تُمہی سے ہوں
میں تُم سے پیار کرتی ہوں
ثمینہ تبسُم

آج کل ان اسلام آباد !!!


" سُنتے ہو جی کیا کہتی ہُوں ؟ "
" کیا کہتی ہو ؟ "
" کب آؤ گے ؟ "
" جب تُم چاہو "
" سچ کہتے ہو ؟ "
" سچ کہتا ہوں "
" مت جاؤ ناں "
" لو نہیں جاتا "
" فُون کرو کہ دھرنے پہ ہو ۔۔۔ آ نہیں سکتے "
" کر دیتا ہوں ۔۔۔۔ تُم تو میری جان ہو جانم ۔۔۔ آجاؤ ناں "
" چھوڑو بھی یہ چُوما چاٹی ۔۔۔۔ اس سے پہلے بتی جائے کپڑے دھو لو "
" آلو گوشت بنا کے تُم بھی آجانا ریڈ زون کے اندر "
" پہلے ہم تقریر سُنیں گے ۔۔۔ نعرے بازی بھی کر لیں گے "
" پھر کل کس نے کیا کرنا ہے ۔۔۔ ڈسکس کر کے گھر آئیں گے "
" سُنتے ہو جی ۔۔۔۔۔۔۔
ثمینہ تبسُم

Saturday, 13 September 2014

عمران خان !!!


سُنو
کل تک جو مٹی اپنے ماتھے سے لگا کر
اک نظر تُم آسمانوں کی طرف تکتے تھے
بازی جیت لیتے تھے
اُسی مٹی میں ہم نے اپنی نسلوں کا مُقدر بو دیا ہے
تو اب تُم ہو
یہ دھرتی ماں ہے
اللہ ہے
تو خالی ہاتھ مت آنا
کہ ہم سب نے
تُمہارے نام کی چادر کا جو جھنڈا بنایا ہے
اُسے ہم نے نئی صُبح کے سُورج سے سجانا ہے
قدم آگے بڑھانا تُم
کہ خالی ہاتھ مت آنا
کہ خالی ہاتھ مت انا
ثمینہ تبسُم