Monday, 11 August 2014

نقارہ !!!



کیا اندھے ہو ?
کیا گونگے ہو ?
کیا لنگڑے لُولے رہ کے جینا چاہتے ہو ?
جب نہیں تو مُردہ رُوح کیوں ہو ?
جب نہیں تو بولو زندہ ہوں
جب نہیں تو سر کو اُٹھاو اب
جب نہیں تو قدم بڑھاو اب
تو کہہ دو اک آواز میں سب
اب اور نہیں
اب بس
اب بس
اب بس
ثمینہ تبسم

Saturday, 2 August 2014

عُمر قید !!!



پردیس میں رہنے والو

جب بارہ بارہ گھنٹے کی شفٹیں تُمہیں مفلُوج کر دیتی ہیں
جب بازاری کھانا کھاتے ہُوئے گھونٹ گھونٹ آنسُو پیتے ہو
جب ہر شام تنہائی کی جادر اوڑھے چُپ چاپ بیٹھے ٹی وی کو گھورتے ہو
اور جب اپنے بدن کی آگ اور پانی میں خُود ہی جلتے پگھلتے ہو
کبھی یہ سوچا ہے ؟
کہ وہ عورت جسے تُم دیس میں چھوڑ آئے ہو
اُس پہ کیا گُزرتی ہو گی ؟

ثمینہ تبسُم

مُحبت کا سفر !!!



آؤ 
ہم اپنی ذات کی قید سے آزاد ہو کر
روشنی کی تلاش میں چلیں
راستہ طویل سہی
دُشوار سہی
تاریک سہی
مگر مُجھے یقین ہے کہ ایک دن
ہم بند سوچوں کی اندھی سُرنگ سے باہر نکل کر
اُن آسُودہ وادیوں میں اُتریں گے
جہاں اُمید کے جُگنُو
اور خُوشی کی تتلیاں
ہمارا استقبال کریں گی
جیاں صرف مُحبت کا راج ہو گا
آؤ
ہم محدُود سے لامحدُود ہو جائیں
ہم انسان بن جائیں 

ثمینہ تبسُم

پردیس !!!



مانا دُور بہت ہو رہتے
مانا تُم کو کام بہت ہے
مانا ایس ایم ایس کرو گے
مانا فُون پہ بات کرو گے
مانا کہ وٹس ایپ پہ فوٹو بھی بھیجو گے
پر دیکھو نہ
اج کی رات بھی میرے بیڈ پہ ایک سرہانہ
چُپ چُپ سا تنہا لیٹا ہے
تنہائی کو سہہ نئیں سکتی
اور کبھی میں کُچھ نہیں کہتی
آج مگر تُم 
آجاو ناں
مر جانی کو گلے لگا کے 
چاند مُبارک کہہ جاؤ ناں 
آ جاؤ ناں

ثمینہ تبسُم

بند مٹھی!!!



وہی
ویسا ہی
جیسے تھا
سبھی کُچھ ہے

بڑے بڑے بٹنوں والا بابا آدم کے زمانے کا ریڈیو
پلنگ کے سرہانے کی طرف تہہ کر کے رکھی ہوئی جائے نماز
مدینہ شریف کی ہرے دانوں والی تسبح اور سفید ٹوپی
موٹے موٹے شیشوں والی نظر کی عینک
ایک کٹوری میں رکھی ہوئی بتیسی
نیلی ٹوکری
اور ٹوکری میں رکھی ہوئی ہومیو پیتھک کی دوائیاں
دیسی چُورن کی کئی پُڑیاں
کُھلے اور بند لفافے
اور بڑی چھوٹی ڈبیاں 
انگیٹھی پہ ترتیب سے رکھے ہوئےضیائے حرم کے درجنوں رسالے
الماری میں لٹکی ہوئی رنگین ٹائیاں
نئے اور پُرانے مفلر
سویٹر اور اُونی ٹوپیاں
موزے اور جُوتے
چپل اور کیھڑیاں
میل خُوردہ کالروں والی شرٹیں
بوسکی کے کُرتے اور لٹھے کی شلواریں
ایک ہلتی ہوئی کُرسی
اور درازوں والی بھاری میز

سبھی کُچھ ہے
ابھی کُچھ دیر پہلے تک
یہ چیزیں سانس لیتی تھیں
یہ اک دُوجے پہ ہنستی
چھینکتی
اور کھانستی تھیں

بس 
ابھی کُچھ دیر پہلے
اُس نے سب چیزوں کی رُوح
اپنی برف ہوتی ہوئی
جُھریوں بھری مُٹھی میں بند کر لی

ابھی کُچھ دیر پہلے تک
اس کمرے میں
اُس کے ساتھ ہر چیز زندہ تھی

ثمینہ تبسُم

چور!!!



بظاہر سب ٹھیک ہے
وہی خُوبصورتی سے بنے بال
نفاست سے کٹے ناخُن
اور خُوش لباسی

کھانا پینا
واک پہ جانا
کتابیں پڑھنا
ٹی وی دیکھنا 
بات سُن کے سمجھنا اور مُسکرا دینا

سبھی کُچھ ہے
مگر اُس کی ویران آنکھیں دیکھی نہیں جاتیں
اگرچہ وہ ہے 
مگر اسے نہیں معلوم کہ وہ کون ہے

اُس کی یادوں کا خزانہ سفاک الزائمرز نے چوری کر لیا ہے
اور اُس چور کا کوئی کُچھ نہیں بگاڑ سکتا 

ثمینہ تبسُم

نیا چاند !!!


 
وہ بھی وقت تھا
جب کائنات خاموش تھی
سُنسان تھی
اُداس تھی
راتیں لمبی اور تاریک تھیں

پھر تُم نے درشن دیئے
دھیرے دھیرے
چاندنی چٹکنے لگی
تارے چمکنے لگے
کہکشاں پُورے دنوں سے تھی

کہ اچانک
تُم نے کروٹ بدلی
کسی اور آنگن میں جا اُترے
راتوں کو گرہن لگ گیا

لیکن اب
میں سوگ نہیں مناتی
نئے چاند کا انتظار کرتی ہوں
 ثمینہ تبسُم