Saturday, 5 July 2014

باز گشت !!!



اج تک میں وہ ہنسی بھُول نہیں پائی ہوں
میں نے خُود جب یہ کہا تھا ماں سے
نئیے کپڑے نہیں چایئے مُجھ کو
میں بڑی بہن کی اُترن ہی پہن لوں گی ماں
تُم یہ پیسے میرے کپڑوں پہ خرچ نہ کرنا 
مُجھ کو پڑھ لکھ کے بڑا بننا ہے
مُجھ کو کُچھ اور کتابیں لے دو
عین اُس لمحے
میرے بھائی نے ہاتھوں سے میرے
میرے پیسے 
میرے خوابوں کی طرح چھین لیئے
اور ہنستے ہوؤے مُجھ سے یہ کہا
کتنا ہی پڑھ لے
مگر کُچھ نہیں بن پائے گی تُو

اُس نے کھینچے تھے میرے بال
میں وہ بُھول گئی
اُس کے پیروں ک وہ ٹھوکر بھی بھُلا دی میں نے
آج تک
 میں وہ ہنسی بھول نہیں پائی ہوں
 
ثمینہ تبسم

تلاش !!!


وہ کھو گیا ہے کہیں
کوئی ڈھُونڈ دو اُس کو
وہ میرا مان
میری شان 
میرا سب کُچھ تھا
میرے حوالوں میں سب سے بڑا حوالا تھا
میرے وُجُود کی ساری جڑوں کی مظبوطی
میرے نمُو کی
میری زندگی ہر اُمید
اُسی کی آس پہ میں خود کو ڈھونڈنے نکلی
میری مُراد
میرا مُدعا نہیں ملتا
کہاں گیا میرا مُنصف
کہاں گیا انصاف
خُدا کے واسطے
کوئی تو ڈُھونڈ دے اُس کو

بخشش !!!


میرے قدموں میں تارے تُم بچھا دو گے
یہ کہتے ہو

مُجھے تُم زیوروں سے لاد دو گے
یہ بتاتے ہو

کبھی اٹھکیلیاں کرتے ہو میری چُوڑہوں سے تُم
کبھی گجرے کی خُوشبُو سانس میں بھر کے
بڑی مدہوش سرگوشی میں یہ مُجھ کو بتاتے ہو
کی مُجھ سے پیار کرتے ہو
کی مُجھ سے عشق ہے تُم کو

میں ہنس کے ٹال جاتی ہوں 
مۃجھے معلوم ہے کہ رات اب ڈھلنے ہی والی ہے
ابھی سُورج نکلتے ہی
یہ سارے لفظ یون آنکھیں چُرا لیں گے
کہ میرے گھر کا ہر اک آئینہ مُجھ پہ ہنسے گا

مین دن کی روشی میں جب تُمہاری اور تکتی ہوں
تو ماتھے پہ پڑی شکنیں
نگاہوں کا یہ سناٹا
کٹیلے طنز میں ڈُوبےہوؤےنشتر
مُجھے حیران کرتے ہیں

مُجھے کُچھ بھی نہیں درکار تُم سے
کہ سونے اور چاندی کا
ستاروں کا
بہاروں کا
حسیں دُنیاؤں کا ہر راستہ معلوم ہے مُجھ کو

میں تُم سے بس یہی اک آس رکھتی ہوں
کہ میرے پاؤں کے نیچے جو دلدل ہے
اُسے اپنی بھروسے کی چٹانوں میں بدل ڈالو
مُجھے خود میرے قدموں پہ کھڑا رہنے عزت دو
کہ میں بھی مان سے اور فخر سے دۃنیا کو بتلا دوں
کہ تُم سے پیار کرتی ہوں
کہ تُم سے عشق ہے ہے مُجھ کو


ثمینہ تبسم۔

سوال !!!


جب میں تیرہ برس کی تھی
میری ماں مُجھے گھر داری سکھایا کرتی تھی
اُنیس برس کی عمر میں
میں ایک بچی کی ماں تھی
آج میری بیٹی
اُنیس برس کی ہے
میرے ہاتھوں میں
ٹُوٹی ہوئی پتواریں ہیں
اپنے آنسوؤں سے تر دامن میں 
اپنے بچوں کو چُھپائے
میں سوچتی ہوں
میں اپنی بیٹی کو کیا سکھاؤں؟
ثمینہ تبسم۔

موازنہ !!!

ماں 
اپنی غُربت کے باوجُود
تُو کتنی سخی تھی
برگد کے گھنے سایہ دار درخت کی طرح
میں تیری طرح کیوں نہیں بن سکی ماں ?
زندگی کی جنگ لڑتے لڑتے
میں سرو کے درختوں میں آ کھڑی ہوئی ہوں
نہ میری جڑیں زمین میں گہری اُتر سکیں
نہ میں اپنے بچوں کو گھنی چھاؤں دے سکی
قصور کس کا ہے ماں؟
وقت کا؟
یا مُقدر کا؟

ثمنیہ تبسم

دوسری عورت !!!


برف گرتی رہی
گرم کمرے کی ٹھنٹدے پسینے میں ڈُوبی ہوئی کھڑکیوں سے پرے
برف گرتی رہی

ہاتھ میں فُوں لئیے
اپنے کمرے میں آرام کُرسی پہ ساکت پڑی
میں بلکتی رہی

شام کی بات ہے
روز کی طرح تُم آج بھی اپنے کاموں سے فارغ ہوئے
کار میں بیٹھ کر
فُون پہ مُجھ کو میٹھے سُروں میں گئے دن کی باتیں سُناتے رہے
میں بھی ہنستی رہی
بات سُنتی رہی
مشورے بھی دئیے
اور میری مُحبت میں ڈُوبے ہوئے
تُم نے پندرہ منٹ کا یہ تھورا سا رستہ
کوئی گھنٹہ بھر میں مُکمل کیا
گھر کے گیراج میں ٹھر کے بات کی
فُون پہ پھر یہ میں نے سُنا

" بیٹا کھانے کی ٹیبل پہ برتن لگاؤ
  میں کھانا نکالوں
  تُمہارے پپا آگئے ہیں "
گھر کے اندر سے آئی بڑی گرم جوشی میں ڈُوبی صدا

تُم نے بےحد مُحبت سے کل پھر سے ملنے کا وعدہ کیا
فُون کو بند کیا
مشرقی دیوتا بن کے گھر کو چلے
اور میں
گھر سے باہر کی اک دلرُبا کی طرح
اپنے ہونے نہ ہونے کی تکرار میں
خُود سے اُلجھی ہوئی
ہاتھ میں فُوں لیئے
اپنے کمرے میں آرام کُرسی پہ ساکت پڑی
خُود سے آنکھیں چُراتی سسکتی رہی
برف گرتی رہی

ثمینہ تبسُ

تشکرُ !!!


میرے انوکھے چندرما
تاروں کے جُھرمٹ میں گھرے
بے مثل تُم
پُرنُور تُم
اے چاند 
تُم ہو روشنی ننھے ستاروں کے لیئے

اس وسیع دُنیا میں
اک برفوں تلے ڈُوبے ہوئے 
سردی سے ٹھٹھرے شہر میں
کھڑکی سے اپنی جھانکتی
آنکھوں میں ڈھیروں پیار کی باتیں لیئے
تیری طرح اے چاند
میں نے بھی ہر اک موسم سہا
اپنے ستاروں کے لئے
میں نے خُوشی کے نُور کی 
ہر پل گھنی برسات کی

اے چاند آ کہ اپنے رب کی شان میں
حمدوثنا مل کے کریں
اُس نے تُجھے چندا مُجھے عورت کیا
اور ھم نے اُس کے نُور سے دُنیا  کو روشن کر دیا
 
ثمینہ تبسم۔۔